یوں تو ہر رشتہ کا انجام یہی ہوتا ہے
پھول کھلتا ہے
مہکتا ہے
بکھر جاتا ہے
تم سے ویسے تو نہیں کوئی شکایت
لیکن
شاخ ہو سبز
تو حساس فضا ہوتی ہے
ہر کلی زخم کی صورت ہی جدا ہوتی ہے
تم نے
بیکار ہی موسم کو ستایا ورنہ
پھول جب کھل کے مہک جاتا ہے
خود بہ خود
شاخ سے گر جاتا ہے
ندا فاضلی
Yun to har rishtey ka anjaam yahi hota hai
Phool khilta hai
Mehakta hai
Bikhar jaata hai
Tum se waise to nahin koi shikayat
Lekin
Shaakh ho sabz
To hassaas fiza hoti hai
Har kali zakhm ki soorat hi juda hoti hai
Tum ne
Bekaar hi mausam ko sataya varna
Phool jab khil ke mehak jaata hai
Khud ba khud
Shaakh se gir jaata hai
ندا فاضلی جن کا اصل نام مقتدی حسن فاضلی تھا جدید اردو شاعری کے ان نمایاں اور منفرد لہجے کے شاعر تھے جنہوں نے روزمرہ زندگی، انسان کے دکھ اور سماجی انتشار کو نہایت سادہ لیکن دل میں اتر جانے والے الفاظ میں بیان کیا۔ 12 اکتوبر 1938ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، بعد ازاں ترقیِ ادب کے حوالے سے ممبئی ان کا مستقل شہر بنا۔ گھر کا ماحول علمی اور ادبی تھا، اسی ل...
مکمل تعارف پڑھیں