آہ سن کے جلے ہوئے دل کی!
کانپ اٹھی لُو چراغ محفل کی
بے کھلا پھول توڑنے والے
یہ تو تصویرہے مرے دل کی
یا تو بھولا ہے ناخدا رستہ
یا حدیں ہٹ گئیں ہیں ساحل کی
وہ جو اب آئینے میں دیکھتے ہیں
خیر ہو چوٹ ہے مقابل
میری کشتی کا رخ بدلنے دو
موج لے لے گی پناہ ساحل کی
راہبرخود بھٹک گئے رستہ
ہوقمرخیر اب تو منزل کی
قمرجلالوی