قمرجلالوی

شاعر

تعارف شاعری

بصد خلوص بصد احترام کرتے چلو

بصد خلوص بصد احترام کرتے چلو
بزرگ جب بھی ملیں تم سلام کرتے چلو
ادب سے پیار سے اخلاق سے محبت سے
جو دشمنی کریں ان کو بھی رام کرتے چلو
دل و دماغ میں لوگوں کے نقش ہو جائیں
کچھ ایسے شعر زمانے کے نام کرتے چلو
خود اپنی فکر تو دنیا میں سب ہی کرتے ہیں
جو دوسروں کے لئے ہوں وہ کام کرتے چلو
دکھی دلوں کے لئے بن کے ابن مریم تم
بلند دنیا میں اپنا مقام کرتے چلو
زباں پہ مہر لگی ہو تو راہ الفت میں
نگاہ شوق سے اس کو پیام کرتے چلو
خدا کی بندگی عشق رسول سے نغمیؔ
تم اپنے آپ پر دوزخ حرام کرتے چلو

قمرجلالوی