راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

آج پھر برسا ساون اور کالی گھٹا چھائی

آج پھر برسا ساون اور کالی گھٹا چھائی
آج پھر دل ناتواں کو شدت سے تری یاد آئی
آج پھر تیری یادوں کے پھول مہک اٹھے
آج پھر گلشن میں روتی رہی بلبل سودائی
آج پھر تیری جدائی کے چراغ دہک اٹھے
آج پھر تیری صورت تصور میں مسکرائی
آج پھر ہونٹوں نے مرے کچھ گیت گنگاے
آج پھر روتے رہے میں اور میری تنہائی
آج پھر یاد ماضی نے آ کر چھیڑا مجھے
آج پھر نِیم بِسمِل کی ماند شب بِتائی
آج پھر بڑی شدت سے میں رویا تھا قمر
آج پھر کبھی نہ رونے کی میں نے قسم کھائی

راجہ اکرام قمر