راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

اب اس دل کو کسی سے کیا ہو گا

اب اس دل کو کسی سے کیا ہو گا
ہر اک رشتہ ہی آخر تنہا ہو گا
ہم نے چاہا تھا جسے نامِ وفا
اس کے حصے میں فقط اپنی جفا ہو گا
خواب ٹوٹے تو یہی بات کھلی
جاگنے کا بھی جدا اک مزا ہو گا
تو نے اوڑھی ہے زمانے کی قبا
میرا سچ پھر بھی برہنا ہو گا
خامشی اوڑھ کے جیتا ہوں میں
یہ بھی اک قرضِ زمانہ ہو گا
ہجر کی راکھ میں قمرؔ نے لکھا
جیت کا نام ہی دراصل ہارا ہو گا

راجہ اکرام قمر