اب جو خوش ہوتم، تمہاری دنیا میں
نظر کبھی ڈالنا کر ، ہماری دنیا میں
اداسیاں ہیں، اندھیرے ہیں
دور تلک نہ کہیں سویرے ہیں
گزر رہی ہے بس یوں ہی
بنا کسی مطلب کے زندگی
کھوئے کھوئے سے رہتے ہیں ہر دم
یادوں میں تمہاری ہے صنم
ماہ و سال کیسے کٹے پتہ نہ چلا
در موت ہوئے ان کھڑے پتہ نہ چلا
وقت رخصت ہوں اکیلا، گلا نہ کوئی
ویسے بھی جہاں میں تھا ملا نہ کوئی
التجا اخری کرتے ہیں اب ہم
دعاوں میں اپنی یاد رکھنا ہر دم
اب جو خوش ہو تم
رکھنا یاد بات میری
تم تھے دل میں ہمیشہ مرے
ہوئی نہ کبھی مات میری
راجہ اکرام قمر