راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

اب یہ دل بھی کسی دن پتھر ہو گا

بحر: متدارک مربع مخلع مضاعف
فاعلن فَعَل فاعلن فَعَل
کافیہ : پتھر, مختصر, در
ردیف : ہو گا

اب یہ دل بھی کسی دن پتھر ہو گا
زخم سہنے کا بھی اک ہنر ہو گا
ہم نے مانا تھا جس کو عمر بھر
وہی لمحہ سب سے مختصر ہو گا
ریت پر نام لکھا تھا اس نے
جانے کب موج کا وہ گھر ہو گا
بولنے پر بھی سزا ملتی ہے
چپ رہنا بھی یہاں خطر ہو گا
کچھ تعلق جو نبھائے ہم نے
ان کا بوجھ عمر بھر دل پر ہو گا
آئینہ ٹوٹ کے یہ کہتا ہے
ہر حقیقت کا کوئی در ہو گا
ہجر کی رات میں قمرؔ نے جانا
صبر ہی آخری مقدر ہو گا

راجا اکرام قمر