راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

اک جھلا شخص

اک جھلا شخص
وه جھلا سا اک شخص
کتنا ادھورا لگتا ہے
کتنا تنہا لگتا ہے
یونہی کبھی کچھ گنگنا
یونہی کبھی بس مسکرانا
یونہی کبھی شعر سنانا
سوچتا ہوا خیالوں میں
تکتا یونہی خلاؤں میں
نیم بسمل کسی کے انتظار میں
کتنا ادھورا لگتا ہے انتظار میں
بُھلا نہیں سکتا وہ اُسکو
جو اُس کے دل میں بستا ہے
مجھےتنہا سا لگتا ہے
وه جھلا سا اک شخص
کتنا ادھورا سا لگتا ہے
وه جھلی سی اک لڑکی
جو ہر وقت ہنستی رہتی ہے
کتنی ادھوری لگتی ہے
‏چاہتی ہے خزاں کے موسم میں
‏ بکھر جائے کسی زرد پتے کی طرح
‏ اُڑ جانے بس یونہی ہواؤں میں
‏ریزہ بن کر کہیں دور خلاؤں میں
‏اور بن کر آسماں کا تارا
جیسے قطب کا اک ستارہ
‏بس چمکے یوں ہی ستاروں میں
روشنی بھردے ان نظاروں میں
‏کبھی نہ ڈوبے
‏کبھی نہ بکھرے
‏ بس امر ہو جاے!!!
وه جھلی سی اک لڑکی

راجہ اکرام قمر