عکس سے عکس جو ٹکرایا ادھر پانی میں
شرم سے ڈوب گیا چاند قمر پانی میں
شبنمی دیکھ کے رخسار یقین ہونے لگا
پھول رہتا ہے بہت تازہ و تر پانی میں
رات میری تھی حسین، عالم صبح لیکن
اشک ایسے تھے رواں گویا سحر پانی میں
میرے اندر کےطلاطم کو جو دیکھا اس نے
ایک کونے میں گیا بیٹھ کہر پانی میں
منجمد ہونے لگا عالم تنہائی بھی
ڈوبتے دیکھا ہے ہاں میں نے قمر پانی میں
راجہ اکرام قمر