علاج درد دل تیری مہ میں ساقیا نہیں
یہ کیا کہ مہکش ترا ابھی سمجھالا نہیں
تشنگی مٹے گی کیا تیرے مہکدے میں ساقیا
کہ ملا جو بھی ہم کو وہ لبریز پیمانہ نہیں
لکھ اس زبان میں نا سخ کے مہکش سمجھے
کہ چند قطرے ہیں، پوری بوتل دوا نہیں
یہ کشش ہے مہ کی جو لیے جائے مہکدے
دخل اس میں کسی کی ذات کا ذرا نہیں
مجھ پہ غم نہ کر اے چارہ گر مجھے بھی ہے پتہ
لے کر سراہی ہاتھ میں پوری ہوئی کبھی دعا نہیں
جو پینی ہو تو بیٹھ کہیں بھی نہ سوچ قمر
ڈر کیا کسی کا جو ڈر خدا کا نہیں
راجہ اکرام قمر