انجانے میں وہ جو کل میرے گھر آیا
عید سا سماں بنا، کہکشاں نیچے اتر آیا
ایک دو بول سرسری، ایک لمبی خاموشی
آنکھوں سے آنسو پھر اچانک دل میں اتر آیا
فضاؤں میں گونجی خاموشی کی صدا
یادوں کے آنگن میں وہ لمحہ مڑ کر آیا
چہرہ بسا تھا آنکھوں میں ماہ و سال کا
پہچاننے میں سمے لگا جب وہ اندر آیا
کچھ یوں تو وہ حسیں تھا پہلے بھی مگر
گیسوں کی چاندی سے وہ اور بھی نکھر آیا
عمر نے بدل دیے تھے چہرے کے اس کے خد و خال
پھر بھی وہ کسی طرح نہ قیدِ عمر میں نظر آیا
رات کے سناٹے میں چھپی روشنی نظر آئی
دل کے آئینے میں نمایاں تیرا قمر آیا
راجا اکرام قمر