اس کی آمد، شہر کی فضا کو بہار کر گئی
یہ دل جو سنبھلا تھا ابھی، پھر بے قرار کر گئی
ملاقاتِ رقیب اتفاقاً ہوئی تھی شاید
وسوسے دل میں ہمارے مگر بے شمار کر گئی
حد میں رہے ہم، اپنی حد کو جانتے ہوئے
یہی حد آج آنکھوں کو ہماری اشکبار کر گئی
اس پیکرِ حسن کا فقط ایک انکار تھا مگر
میری ساری حیات کو سرِ نوکِ خار کر گئی
یوں ملنا تو مقدر میں ہمارے نہیں تھا مگر
یک جا ہمیں قمرؔ کی کتابِ اشعار کر گئی
قمرؔ بہت سنبھل کے بھی انجام ٹل نہ سکا
اس کی ذرا سی مسکراہٹ وار کر گئی
راجا اکرام قمر