• بہر: فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فعولن
• ردیف: ہوتے ہوئے
• ہم قافیہ: سنبھالتے
ایک لمحے کو جو لوٹ آئیں قمر، مسکراتے ہوئے
ہم سانس توڑ بیٹھیں گے اپنے زخم سنبھالتے ہوئے
یہ ہجر کی گھڑی بھی عجب امتحان بنی
ہم ٹوٹتے گئے ہیں اپنا دل سنبھالتے ہوئے
ہر خواب ریزہ ریزہ ہوا وقت کی ہوا میں
ہم عمر بھر رہے ہیں اپنے غم سنبھالتے ہوئے
خاموش رات نے پھر دل سے سب چھین لیا
ہم جاگتے رہے ہیں آنسو بہاتے ہوئے
وہ ایک نام جو لب پر کبھی نہ آ سکا
دل رو دیا ہے خود ہی اسے چھپاتے ہوئے
شب بھر سسکتی رہتی ہے تنہائی مری قمر
تارے بھی رو پڑے ہیں ہمیں آزماتے ہوئے
راجہ اکرام قمر