راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

بیٹھ کر میکدے میں جو شروع ہم نے تلقین کر دی

بیٹھ کر میکدے میں جو شروع ہم نے تلقین کر دی
رند سارے جھوم اٹھے افرین افرین کر دے
موضوع ہمارا بزم حسن تھا اور ہم نے
حسن والوں کی حقیقت پیش سائمین کر دی
ہر اک کی اپنی سوچ تھی ہر کوئی مدعے پہ ڈٹا
حسن کو بے وفا، اور عاشقوں کی کچھ نے توہین کر دی
وہ جو تھے حسن پرست، طرف حسن رہے ہر وقت
وفادار کی انہوں نے بھی مثال اک بہترین کر دی
شور و غل کے سماں میں کچھ دیر سکون پانے کو
کھڑی دور بوتل ہم نے اپنے پھر قرین کر دی
حضرت شیخ کیا پوچھیے ہنگامہ برپا تھا ہر طرف
اس غریب قمر نے بھی تھک ہار کر بس امین کردی

راجہ اکرام قمر