بات ان کی کیسے ٹالی جائے گی
نگاہ در یار سے ہٹا لی جائے گی
وہ کسی طور نہ میرے ہو سکے
کسک دل سے نہ نکالی جائے گی
تب بیٹھ کر رونے سے کیا فائدہ
قبر پر جب مٹی ڈالی جائے گی
اخلاص کے پھول نہ اتنے اٹھا
کہیں جھک نہ ڈالی جائے گی
قصوں میں جیتا جب پاؤ گے قمر
بتاؤ!! چشم تر کیسے چھپالی جائے گی
راجہ اکرام قمر