ایک کپ سبز چائے کا
اس کے دائیں ہاتھ میں تھا
سفر ماضی کی یادوں کا
شاید درد ساتھ میں تھا
وه دیر تلک لان میں
بیٹھی کچھ سوچتی رہی
دسمبر کی سرد راتوں میں
دوبد موسم میں روتی رہی
میں دور سے دیکھ رہا تھا اس کو
کچھ اسکے لیے مگر کر نہ سکا
بے بس تھا فلک کے قمر کی طرح
میں مر کر بھی مگر مر نہ سکا
راجہ اکرام قمر