بت کافر جانے کہ ہے وہی ہی حسین قمر
جانے نہ کے ہیں اور بھی انمول نگین قمر
لاکھ چاہے، وہ نہ ٹیکے گا کبھی جبیں قمر
در اور بھی ہیں، اس کے در سے حسین قمر
بصر و چشم رکھو، تم نہ رہو رقیب بن کر
ہمیں مل ہی جائے گا کوئی اور ماہ جبیں قمر
یا تو تجھ میں کوئی بات نہیں دلکشی والی
یا پھر ترا طرزِ بیاں ہی نہیں دل نشیں قمر
قربِ تن، یارو، شرطِ محبت تو نہیں
چاہتِ بندگی بھی تو ہے عشق و دین قمر
دیوانوں کی بستی میں سوائے دیوانگی کے
کیا ملے—ہر مکیں کھویا ہے تصور میں قمر
راجا اکرام قمر