بےقراری ہی بیقراری ہے
تیری یادوں کی یہ خماری ہے
ہر گھڑی دل پہ اک ادھاری ہے
تیری دوری ہی جاں پہ بھاری ہے
رات آنکھوں میں کٹ نہیں پاتی
ہجر کی بھی کوئی دلاری ہے
تو نہیں تو یہ شہر لگتا ہے
جیسے صدیوں کا سوگ واری ہے
میں نے مانا قصور دل کا ہے
پر تری بےرُخی بھی بھاری ہے
وقت رک سا گیا ہے تیرے بعد
ہر گھڑی ایک نئی ہی خواری ہے
کس سے کہیے کہ کس قدر تنہا
یہ محبت بھی جو ہماری ہے
اشک آنکھوں سے پوچھتے ہیں قمر
کیا جدائی ہی رسمِ یاری ہے
راجا اکرام قمر