راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

چہرہ تو ہوتا ہے ایک اخبار کی طرح

چہرہ تو ہوتا ہے ایک اخبار کی طرح
ملتے ہو کیوں پھر کسی اداکار کی طرح
گفتگو کے پانچ گر، گر جو سمجھ جاؤ
سماجی زندگی ہو جائے سنگھار کی طرح
کرو نہ خود کلامی کسی بھی محفل میں
معنی خیز گفتگو ہوتی ہے اک بیمار کی طرح
سوال پوچھنے کے عمل کو دوہراؤ بار بار
لوگ سمجھنے لگیں تمہیں سمجھدار کی طرح
سوچو خود کو دوسروں کی جگہ پر رکھ کر
ہمدردی کرو مگر ایک ایماندار کی طرح
کوئی عنوان تو ہو تمہاری گفتار محفل کا
باتیں نہ کرنا کبھی ریخْتَہ گفتار کی طرح
اثر پڑے نہ تعلقات پر کسی بھی بات کا
محفل میں قمر بات کر ایماندار کی طرح

راجہ اکرام قمر