راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

چراغِ دل کی ویرانی میں ہم جلتے ہوئے

بہر : بحرِ ہندی/ متقارب اثرم مقبوض محذوف
فِعْلن فِعْلن فِعْلن فِعْلن فِعْلن

چراغِ دل کی ویرانی میں ہم جلتے ہوئے
ہر ایک خواب کو تھامے سنبھالتے ہوئے
اک بار بھی ہم نے نہ کیا شکوۂ نصیب
ہر زخم کو ہونٹوں سے بتاتے ہوئے
وہ مسکرائے تو دل کی گہرائی چھلک گئی
ہم ٹوٹ ہی گئے تھے مسکراتے ہوئے
ہم نے تو فقط عشق کو سچ جانا تھا
دنیا نے رنگ دکھائے آزماتے ہوئے
کچھ خواب تھے جو نیند سے پہلے ہی بجھ گئے
آنکھوں میں رہے دیر تلک تھرتھراتے ہوئے
خاموشیوں نے شور مچا رکھا تھا دل میں
ہم مر گئے تھے خود کو بتاتے ہوئے
اک عمر لگی خود سے شناسا ہونے میں
ہم خود سے ہی ملے سنبھالتے ہوئے
کبھی جو لوٹ آئے وہ خوابِ رفتہ، قمر
ہم مر ہی نہ جائیں خود کو مسکراتے ہوئے

راجہ اکرام قمر