دلکشی، انس، محبت، عقیدت اور عبادت
وادی عشق میں سب تھا مگر سکوں کے سوا
عشق کی چھٹی منزل پر پہنچے تو دیکھا
کچھ بھی نہ پایا وہاں پر جنوں کے سوا
یوں تو شہر لیلی کا ہر شخص دیوانہ تھا
پتھر کسی نے بھی نہ کھائے مگر مجنوں کے سوا
اسکے نگر سے ائے ہر شخص نے بتایا مجھے
دل نشین تھے نظارے مگر فسوں کے سوا
مرتی کبھی نہ سسی بھی عشق کے ہاتھوں
کر لیتی محبت وہ کسی سے بھی پنوں کے سوا
کچھ ہنر اس کو بھی اتا تھا گفتار حسین کا
باتیں اس کی اچھی تھی ساری مگر کوں کے سوا
اب کیسے بتاتا میں قمر اپنے حجرے کا عالم
کہ کچھ بھی نہیں ہے وہاں اتش دروں کے سوا
راجہ اکرام قمر