درد دل سب کو سنا کے دیکھ لیا
ترے شہر میں آ کے دیکھ لیا
سنگدل کے سنگدل ہی رہے
داغ جگر دکھا کے دیکھ لیا
نادان ہیں، ہوجائیں اسی کے ہم
جس نے بھی مسکرا کے دیکھ لیا
باتیں کریں بیٹھ کر گورستان میں
زندہ لوگوں کو آزما کے دیکھ لیا
پیچھا نہ چھوڑیں یادیں تیری
مہکدے بھی جا کر دیکھ لیا
شوق جاناں کی بس کرے ہے ضد
لاکھ دل کو سمجھا کے دیکھ لیا
سنگت ہمیں راس نہ آئی کوئی بھی قمر
تنہائی کو بھی گلے لگا کے دیکھ لیا
راجہ اکرام قمر