لمبی تنہا راتیں ہیں ساون کی برساتیں ہیں سوچیں ہی بس سوچیں ہیں خود سے ڈھیرں باتیں ہیں دھیرے دھیرے جل رہا ہوں میں جیسے طاق ہر رکھا اک دیا ہوں میں کوئی تو آ کر بجھا دے مجھے کوئی تو آ کر سلا دے مجھے کوئی تو آ کر سلا دے مجھے
راجہ اکرام قمر