غسل آخر نکھر گیا ہوں میں
زیب تن کفن کر گیا ہوں میں
تم یقین کیوں نہیں یہ کرلیتے
اس کہانی میں مر گیا ہوں میں
کرچیاں کرچیاں ہیں چاروں طرف
آئینہ تھا بکھر گیا ہوں میں
جب سے نکلا ہوں گھر کے آنگن سے
تب سے ہو دربدر گیا ہوں میں
خوبصورت تھے آئینے کے ادھر
عکس دیکھا تو ڈر گیا ہوں میں
ہو زمیں پر نہ گرچہ رہنے کو
گھر آسمانوں میں کر گیا ہوں میں
تیری یادوں میں ڈوب کر جاناں
بن فلک کا قمر گیا ہوں میں
راجہ اکرام قمر