راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

ہاتھ میں تیرا ہاتھ اور سنگ زمانہ تھا

ہاتھ میں تیرا ہاتھ اور سنگ زمانہ تھا
سمے جو بیت گیا کس قدر سہانا تھا
وہ زندگی بھی تو تصویر بن گئی جیسے
فضا بہار کی، چڑیوں کا کیا چہچہانا تھا
تمہیں خیالوں میں رہنا ہے اس میں سنگ میرے
وہ ایک مکاں ۔۔۔۔۔ جو کبھی میرا شیانہ تھا
جو ڈھونڈتا ہوں میں تصویر میں گئے کل کو
مزاج اپنا بھی کیسا وہ عاشقانہ تھا
یوں کرچیوں میں قمر بانٹتے ہو کیوں خود کو
یہ ائینہ تو فقط ۔۔۔۔آخری ٹھکانہ تھا

راجہ اکرام قمر