ہائے وہ اک لمحہ ہے جدائی جو یادگار بنا
اعلی ظرف رہی ذات تیری میں گنہگار بنا
رویا تو ہوگا تو بھی جدا مجھ سے ہو کر
کیوں نہ تیرا حرف زباں کوئی اظہار بنا
لٹا کر مسرتیں ساری اس اک پل میں
میں بس اس کے بعد اک روح بے قرار بنا
کٹھن مسافتیں لگیں تیرا ہاتھ چھوٹنے کے بعد
عجب گردش حیات کا پھر شکار بنا
جھکا رہے گا سر ندامت اب اے قمر
میں عمر بھر کے لیے اس کا شرمسار بنا
راجہ اکرام قمر