راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

ہم آتے ہیں، غزل سناتے ہیں، چلے جاتے ہیں،

ہم آتے ہیں، غزل سناتے ہیں، چلے جاتے ہیں،
سب دلوں کے راز بتاتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔
ہم نے چاہا بھی نہیں دل کو گرفتار کریں،
بس ذرا آنکھ ملاتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔
ہم کوئی خواب نہیں تھے جو دکھا کر ٹوٹیں،
بس حقیقت کو جگاتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔
ہم نے بولا بھی نہیں دل کے تقاضوں کا حساب،
خامشی میں ہی سناتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔
نہ شکایت، نہ گلہ، نہ تقاضا ہمارا تھا،
ہم تو بس درد سنبھالتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔
قمرؔ ہم نے تو کبھی دل کو صدا تک نہ دی،
بس نظر بھر کے بلاتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔

راجا اکرام قمر