راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

ہمارے دل میں وہ رہتا ہے جو مکیں کہیں اور ہے

ہمارے دل میں وہ رہتا ہے جو مکیں کہیں اور ہے
نظر کے سامنے ہو کر بھی وہ جبیں کہیں اور ہے
یہ اداسی، یہ ہجر، یہ خامشی کا سلسلہ
لبوں پہ مسکراہٹ ہے، پر یقیں کہیں اور ہے
ہم اپنے دکھ چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
کہانی کچھ سنائی جائے، یقیں کہیں اور ہے
وہ ساتھ چل کے بھی تنہا ہمیں چھوڑ جاتا ہے
قدم یہیں پہ ٹھہرے ہیں، مگر زمیں کہیں اور ہے
یہ آنکھ نم ہے مگر آنسو نہیں گواہی میں
جو درد دل میں پلتا ہے وہ ہم نشیں کہیں اور ہے
ہم اپنی ذات کو کھو کر بھی ڈھونڈتے ہیں اسے
وجود اپنا یہیں ہے، وہ مکیں کہیں اور ہے
ہمیں جو درد ملا ہے وہ بانٹتے کیسے
زمانہ ساتھ تو ہے، پر قرین کہیں اور ہے
وہی چہرہ، وہی لہجہ، وہی باتیں ساری
مگر دل کا وہ پہلا سا سکیں کہیں اور ہے
ہماری نیند بھی اب ہم سے روٹھ سی گئی ہے
بدن یہیں پہ ہے لیکن سکیں کہیں اور ہے
ہم اس کی بزم میں شامل تو روز ہوتے ہیں
مگر جو دل کو لگے وہ نشیں کہیں اور ہے
تمام عمر جسے ہم نے اپنا سمجھا قمرؔ
وہی تو سب سے زیادہ، قرین کہیں اور ہے

راجہ اکرام قمر