جب سے بچھڑا ہے تو بکھر گیا ہوں
زندہ رہتے ہوئے بھی مر گیا ہوں
ڈسنے لگتی ہے مجھ کو تنہائی
میں ترے بعد جب بھی گھر گیا ہوں
ائینے سے نہ چھپ سکا مرا کرب
ائینہ دیکھتے ہی ڈر گیا ہوں
کھا گئی ہے تجھے کسی کی نظر
میں خزاؤں کا ہو شجر گیا ہوں
بہر و بر کی تمیز تجھ سے تھی
میں سرابوں میں پھر اتر گیا ہوں
ایک تیری تلاش میں اے قمر
جا بجا اور در بدر گیا
راجہ اکرام قمر