جو سلسلہ ہی نہ ہو تو پھر وضاحتیں کیسی
میرا یار مانگے مجھ سے محبتیں کیسی
تجھ سے کیا مانگیں تجھے عزیز کوئی اور
جب دل ہی نہ ملے ہوں تو شکایتیں کیسی
دشت یار میں استقبال سنگ طفلاں سے ہوا
جستجو یار میں ملیں ہمیں وحشتیں کیسی
وہ اتفاقا ہی کوچے سے ترے گزر ہوا تھا مرا
منسوب مجھ سے پھر یہ تری حکایتیں کیسی
نہ پوچھ ہم سے کہ بدنام نہ وہ ہو جائے
ملیں خیابان برگشت میں ظلمتیں کیسی
جو ملتا ایک بار تو داستاں اپنی سناتے
بعد اس کے ٹوٹیں قمر قیامتیں کیسی
راجہ اکرام قمر