جی رہا ہوں ترے بغیر، یہ تو کمال ہوگیا
آج بچھڑے تجھ کو چوتھا سال ہو گیا
اک لمحے میں لٹ گئی مری عمر کی کمائی
تیرے بچھڑتے ہی میں کنگال ہو گیا
اب تک یقین نہیں کہ دوریاں ہیں ہم میں
سادہ سا سفر زیست کا جبال ہو گیا
اُجْڑی پڑی ہے ہر شاخ، شجر کی یہاں
کچھ اسطرح سے مرے چمن کا حال ہوگیا
اب تمنا بہاروں کی کیوں کر ہو مجھے
گلشن تو میرا خزاؤں سے نہال ہو گیا
کچھ اس طرح سے جھگڑ رکھا ہے مجھے
تری یادوں سے نکلنا میرا محال ہو گیا
دسمبر کہہ رہا ہے ماضی کے آئینے کو
وہ حسین و جمیل قمر اب زال ہو گیا
راجہ اکرام قمر