راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

کہے جو تجھ پہ وہ اشہار جھوٹ بولتے ہیں

کہے جو تجھ پہ وہ اشہار جھوٹ بولتے ہیں
ہیں میرے اپنے مگر یار جھوٹ بولتے ہیں
سمجھ رہا تھا جنہیں تیرا ایک مدت سے
وہ سارے تیرے طرفدار جھوٹ بولتے ہیں
عجب دور ادا کاریوں کا ایا ہے
کہ بولنے کے ہیں فنکار، جھوٹ بولتے ہیں
مرے چمن کی حفاظت جو کر نہیں سکتے
گلوں کے ساتھ لگے خار جھوٹ بولتے ہیں
فراق یار میں لطف و کرم نہیں ملتا
نہ جانے کیوں یہ مرے یار جھوٹ بولتے ہیں
نہ جانے کون سی مجبوریاں ہیں ان کو قمر
تمام شہر کے اخبار جھوٹ بولتے ہیں

راجہ اکرام قمر