راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

کچھ یادوں کی شکل میں کہانی چھوڑ جائیں گے

کچھ یادوں کی شکل میں کہانی چھوڑ جائیں گے
ہم محبت کی اک مہکتی نشانی چھوڑ جائیں گے
ہماری باتوں سے مکمل افسانے ہوا کریں گے
ہم لفظوں کی اک ایسی روانی چھوڑ جائیں گے
غزل بیاں ہو گئی عاشقوں کی زبان سے ہماری
ہم شعروں میں ایسی سِحْر بَیانی چھوڑ جائیں گے
دوست کبھی نہ پاؤ گے ہم سا کوئی بھی دوستو
ہم جہاں میں اپنے جیسا نہ ثانی چھوڑ جائیں گے
انداز اپنا لیں گے لوگ ہماری ہی گفتار کا
ہم کچھ اس طرح کی سخن بیانی چھوڑ جائیں گے
یاد جس کو پھر کرے گا زمانہ برسوں یارو
ہم ایک اسی داستاں عالم جوانی چھوڑ جائیں گے
کچھ اور نہ بھی چھوڑ سکے تو وعدہ رہا قمر
زندگی کی محفلوں میں اشک فشانی چھوڑ جائیں گے

راجہ اکرام قمر