راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

کچھ یقیں کچھ گماں کر گیا

غزل
بحر: متدارک مسدس سالم
فاعلن فاعلن فاعلن

کچھ یقیں کچھ گماں کر گیا
کیا بتاؤں کیا وہ داں کر گیا
رات بھر جاگتی آنکھ سے
خواب آنسو کا ساماں کر گیا
ہجر کی ایک لمبی گھڑی
دل کو آہستہ ویران کر گیا
بات کہتے ہی چپ ہو گیا
لفظ کویکسر بے زباں کر گیا
چھو کے گزرا جو یادوں کا درد
روح تک ایک نشاں کر گیا
میں اکیلا ہی رہ گیا آخر
وہ مگر سب پہ احساں کر گیا
ایک لمحے کی قربت کا دکھ
عمر بھر کا گماں کر گیا
پوچھتا ہے قمرؔ آج بھی دل
وہ مجھے کیوں مہرباں کر گیا

راجا اکرام قمر