راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

خاموشی کی ذمہ داری

خاموشی کی ذمہ داری
تشخیصِ شہر
یہ شہر
سچ کو پہچان لیتا ہے
مگر قبول نہیں کرتا
یہاں لفظ
بولنے سے پہلے
اپنی قیمت پوچھتے ہیں
چہرے
عبادت کی روشنی میں تراشے گئے
باتیں
مصلحت کے اندھیرے میں پلتی ہیں
ضمیر
کسی آئینے میں نہیں رہتا
وہ یا تو
فائلوں میں دب جاتا ہے
یا نعروں میں تحلیل ہو جاتا ہے
ہم نے دیکھا ہے
کہ یہاں
خاموشی کو وقار کہا جاتا ہے
اور خوف کو
حکمت کا نام دیا جاتا ہے
حصہ دوم: تشخیصِ آدمی
ہم نے ابتدا میں
خاموش رہنا سیکھا
تاکہ زندہ رہ سکیں
پھر آہستہ آہستہ
ہم نے جینا
خاموشی میں ڈھال لیا
لیکن ایک دن
لفظوں نے انکار کر دیا
انہوں نے کہا
ہم محض معنی نہیں
ہم ذمہ داری ہیں
تب ہمیں سمجھ آیا
کہ ہر خاموشی
بچاؤ نہیں ہوتی
کچھ خاموشیاں
شراکت دار بن جاتی ہیں
حصہ سوم: حدِ خاموشی
ہم نے چیخنا نہیں سیکھا
ہم نے صرف
اتنا کیا ہے
کہ جھوٹ کے سامنے
سر نہیں جھکایا
اب اگر خاموش ہیں
تو یہ خوف نہیں
یہ وہ وقفہ ہے
جس میں سچ
سانس لیتا ہے

راجا اکرام قمر