کسی بشر پہ نہ تیرا کوئی مقام کھلا
دل کے راز میں چھپا وہ پہلو عام کھلا
لبوں پہ ضبط رہا، دل میں تھا شورِ طلب
نظر کے سامنے آخر وہی کلام کھلا
بچھڑ کے بھی جو رہا دل کے ساتھ ساتھ قمر
اسی خیال سے مجھ پر عجب دوام کھلا
ڈھلی جو رات تو آنکھوں میں تیرگی پھیلی
سحر کے لمس سے لیکن وہی شام کھلا
کسی نے پوچھ لیا مجھ سے حالِ دل میرا
تو تیرے ذکر سے ہونٹوں پہ تیرا نام کھلا
میں عمر بھر جو رہا خود سے ہی الجھا ہوا
تری نظر سے مرے ہونے کا کام کھلا
جہاں بھی ڈھونڈا تجھے ہر طرف تو ہی تو تھا
ہر ایک راہ پہ مجھ پر نیا مقام کھلا
قمرؔ نے عشق کو چھپنے نہ دیا دنیا سے
غزل کے حرف میں اس کا ہی نام کھلا
راجا اکرام قمر