راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

کچھ نہیں ہوتا

کچھ نہیں ہوتا
کوئی نہیں مرتا
کچھ بھی نہیں ہوتا
کسی کے روٹھ جانے سے
کسی کے نہ منانے سے
کچھ نہیں ہوتا
کچھ بھی نہیں ہوتا
بس رہ جاتی ہے ۔۔۔!
ایک خلش بے نام سی
ایک بے چینی بے لگام سی
ایک اداسی اس کے نام کی
اور جلملاہٹ نہ کسی کام کی
کچھ سوکھے پھول گلاب کے
اور مڑے ورق کتاب کے
کچھ سمے ایک جا ٹھہرے ہوئے
چند جملے کبھی نہ کہے ہوئے
کچھ نہیں ہوتا
کچھ بھی نہیں ہوتا
کوئی بھی نہیں مرتا
ہاں رہ جاتی ہیں ٹوٹی اینٹیں اجڑے مکان کی
اور آسیبوں کے ساتھ محبت کسی بے جان کی

راجہ اکرام قمر