**** قطعہ**** لوٹے جو بعد اک مدت ، ہر سو اداسی لگے اپنے دیس میں ا کر بھی ہم پردیسی لگے اوجھل ہوئے وہ لوگ کہ جن سے تھی رونقیں شہر اپنے کی صورت بھی نہ پہلے جیسی لگے
راجہ اکرام قمر