راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

مہ جبیں

نکھری نکھری رنگت اس کی چہرہ جیسے گلاب ہو
اندھیاری شب کا نکلا جیسے اک مہتاب ہو
ہستی انکھیں بیچ پانی میں کھلا ہو جیسے کنول
دیکھ کر اس کو دل یہ چاہے کہوں کوئی غزل
دل یہ چاہے مانگ لوں اس سے اس کی زندگی ادھار
ان گلابی ہونٹوں پر سے پائل سی جھنکار
ہو شہزادی کسی ملک کی یا پھر کوئی حور
چہرے پر مسکان تھی اس کے زندگی سے بھرپور
بیت گئے لمحات وصل کے ہو کر پھر مجبور
انا پڑا چھوڑ کر اس کو اس سے اتنی دور
انکھوں میں سمائے وہ منظر کیا اس ایک سفر کے
ساتھ جب بیٹھی تھی اس شب وہ مہ جبیں قمر کے

راجہ اکرام قمر