راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

مجھ سے کچھ ایسا واسطہ رکھا

بحر : خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن مفاعلن فِعْلن

مجھ سے کچھ ایسا واسطہ رکھا
پاس رہ کر بھی فاصلہ رکھا
وہ رقیبوں سے میرے ملتا رہا
اور مجھ سے بھی رابطہ رکھا
دل کو تسلی دی کئی باتوں نے
اس نے ہر زخم تازہ رکھا
ہم نے چاہا تھا ایک ہونا بھی
اس نے ہر موڑ پر دُوسرا رکھا
کہہ کے سب کچھ بھی وہ نہ کہہ پایا
لب پہ خاموشی کا پردہ رکھا
میں نے چاہا تھا سچ کی نسبت ہو
اس نے ہر سچ کو آدھا رکھا
قرب کے نام پر جدائی دی
دل کے آنگن میں سانحہ رکھا
میں رہا عمر بھر اسی الجھن میں
اس نے رشتہ بھی، مسئلہ رکھا
قمرؔ قرب کے سب قرینوں میں
اس نے مجھ کو ہی فاصلہ رکھا

راجہ اکرام قمر