نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
بحر: ہزج مثمّن اخرب
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
مقبول دعا میری اے نورِ خدا کرنا
اس قلبِ سیہ کار کو شایانِ وفا کرنا
رحمت کی گھٹاؤں سے بھر دے مرے پیمانے
اک قطرۂ الطافِ احمدؐ کی عطا کرنا
ہم خستہ دلوں کو بھی دربار میں جا ملے
ٹوٹے ہوئے ارماں کو پھر اہلِ وفا کرنا
بیمارِ گناہ ہوں، عصیاں کی دوا تم ہو
اس دردِ نہاں کی اب نسبت سے دوا کرنا
ہم جیسے گنہگاروں کا ہے کون سہارا
اے شافعِ محشرؐ! ہمیں اپنا ہی کہا کرنا
جب حشر میں لرزاں ہوں حسابوں سے نگاہیں
اس دم تبسّم سے ہمیں اہلِ وفا کرنا
قمر خاک نشیں ہے، اسے کیا ناز ہو خود پر
بس روضۂ اقدس کے در و بام عطا کرنا
راجا اکرام قمر