راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

میں اورآسماں

میں نے دیکھا جو کل اسمان کو ذرا
بجھا بجھا سا لگا
بس کچھ اداس سا لگا
کوئی دکھ تھا اسے بھی شاید
یہ حقیقت تھی
یا مجھے قیاس سا لگا
پھر حقیقت عیاں ہوئی
کچھ دیر کے بعد
اس کا چاند تو گم تھا گھٹاؤں میں کہیں
ہاں بالکل میرے چاند کی طرح
جو کھو گیا تھا دور خلاؤں میں کہیں
عجب منظر تھا اداسی کا ا
ہم دونوں ایک دوجے کو ہی تکتے رہے
اج ٹوٹ کے پھر آسماں برسا تھا
اور میں بھی ٹوٹ کے رویا تھا

راجہ اکرام قمر