راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

میں خرابوں کا مکیں تھا، خواب کے محلات میں

میں خرابوں کا مکیں تھا، خواب کے محلات میں
خود کو ڈھونڈا، خود کو کھویا عمر بھر کی ذات میں
دل نے جب دنیا کو چھوڑا، راہ پائی قرب کی
تب سکوں اترا ہے آ کر درد کے حالات میں
راہِ حق میں جب لٹا دی میں نے اپنی خواہشیں
تب اجالا سا اتر آیا فقیرانہ حالات میں
میں نے جب خاموش ہو کر سن لیا دل کا کلام
راز کھلنے لگ گئے پھر لفظ سے مناجات میں
میں نے سجدوں میں بھی دیکھا، میں ہی حائل تھا وہاں
فاصلہ نکلا نہ کوئی بندگی اور ذات میں
قمرؔ خود سے فرار آخر کہاں تک کام آیا
عمر ساری جل کے کٹ گئی اپنی ہی ذات میں

راجا اکرام قمر