راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

میں وہ بدبخت جو جنت سے نکالا گیا ہے

میں وہ بدبخت جو جنت سے نکالا گیا ہے
اسی جنت کی آرزو میں مرنے کی دعا کروں
کہا تھا حکمِ ازل مجھ سے، سو مٹی میں اترا
اب ہر اک سانس میں واپسی کا تقاضا کروں
میں نے عہدِ ازل میں ہاں کہہ کے بھی بھولا خود کو
اب اسی بھول کو آنسو سے شناسا کروں
جو لکھا تھا وہی ہونا تھا، یہی حکمِ ازل
پھر بھی تقدیر سے کیوں اتنا میں الجھا کروں
مجھے معلوم ہے سجدہ بھی عطا سے ملتا
کس غرور میں میں خود اپنے کو اعلیٰ کروں
جو بھی دوزخ ہو یا جنت، ہے تری نسبت سے
تیری قربت ہو اگر، آگ کو بھی کیا کروں
میں وہ بدبخت نہیں، تُو نے جو چاہا وہ ہوں
قمرؔ اپنی ہستی کو ترے نام سے زندہ کروں

راجا اکرام قمر