میں نے رکھ لیا ہے وہ تکیہ!
کہ جس پر سر رکھ کر۔۔۔۔
تم خواب دیکھا کرتی تھیں
جس کے کپڑے میں رچی ہے
تمہاری سانسوں کی خوشبو
میں نے رکھ لیا ہے وہ تکیہ!
کہ جس سے وابستہ تمہاری یادیں ہیں
وصل کی راتوں کی خوبصورت باتیں ہیں
میں نے رکھ لیا ہے وہ تکیہ!
کہ وہ ہی اب میرا سہارا ہے
تمہارے بعد مجھے جان سے پیارا ہے
میں اس پر اپنا سر رکھ کر
تمہارے خواب دیکھتا ہوں
آنسوؤں سے تر اپنی آنکھیں
اس کے کپڑے سے پونچھتا ہوں
کہ رچی ہوئی ہے اس میں
آج بھی تمہارے سانسوں کی خوشبو
اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے
کہ جیسے تم آج بھی ہو میرے روبرو
تمہارا تکیہ بھی بلکل تمہاری طرح ہے
اپنی آغوش میں مجھے لے کر
بلکل تمہاری ہی طرح
بولتا کچھ بھی نہیں مگر
سکون دیتا ہے..........!
راجہ اکرام قمر