وہ عالمِ شبِ تنہائی کا سحر نے دیکھا
اکیلے بیٹھا بلبل کو شجر نے دیکھا
کچھ بدگمانیوں نے بڑھا دیں تھیں دوریاں
کچھ ایسا غرور تھا کہ نہ ہم سفر نے دیکھا
یہ داستاں پرانی ہے حسن کے دیوانے کی
کاسہ لیے جوگی کو درِ درد نے دیکھا
ترے خیال کی خوشبو مرے بدن میں رہی
یہ معجزہ بھی فقط دیدۂ تر نے دیکھا
وہ لمس جو کبھی چھو کر بھی چھو نہ پایا مجھے
اسی کو خواب کی صورت جگر نے دیکھا
کہیں سکون ملا بھی تو اک اداس سی چوٹ
ہر ایک راحت کو آخر چشمِ تر نے دیکھا
میں اپنی تنہائیوں میں بھی تنہا نہ تھا کبھی
مجھ کو ہر ایک شب مرے ساغر نے دیکھا
بلبل کے دکھ میں تو شریکِ بزم تھا قمر
مگر مری اداسی کو بس شبِ قمر نے دیکھا
راجا اکرام قمر