کلامِ شاعر
- 01 دفن اس طرح مرے دل کے مقبرے میں ہوا
- 02 پِٹاں لکھ لکھ میں اپنے نصیباں نوں
- 03 خاموشی کی ذمہ داری
- 04 سچ بولنے والوں کو سولی پر چڑھانے کیلئے
- 05 غزہ سے خبر آتی ہے مت مسلم کو روزانہ
- 06 طلب وہی پھر جنت کی کرے
- 07 وہ مقیم اسی شہر میں ہے، ملتا نہیں
- 08 قتلِ یار کا اہتمام ہو جائے
- 09 میں وہ بدبخت جو جنت سے نکالا گیا ہے
- 10 بت کافر جانے کہ ہے وہی ہی حسین قمر
- 11 عشق کی شرط
- 12 یہ عشق اگر سرِ محفل صدا نہ کرے
- 13 کہو وہ عشق کہاں جو وفا نہ کرے
- 14 وہ جو تھے جانے جہاں ہم سے پہلے
- 15 حجابِ خودی
- 16 یہ جو خود کو ڈھونڈتا پھرتا تھا، اک گماں ہی رہا
- 17 میں خرابوں کا مکیں تھا، خواب کے محلات میں
- 18 صبر میں، ملاقات تک
- 19 وہ دور رہ کر بھی دل کی ہی صدا ہے ماشاء اللہ
- 20 قمرؔ یہ حسن جو حد سے بڑھا، خدا کی قسم
- 21 باتوں میں آ کے دل کی آنسو بہائیں گی اکھیاں
- 22 بےقراری ہی بیقراری ہے
- 23 اس کے ہر وعدے پر مجھے یقیں تھا
- 24 گزرتے ہی نہیں لمحے شبِ ہجر کے
- 25 اس کی آمد، شہر کی فضا کو بہار کر گئی
- 26 باسی ہوئے ہیں جب سے ہم دیسِ غیر کے
- 27 انجانے میں وہ جو کل میرے گھر آیا
- 28 دور افلاک کی محفل ستاروں میں رہتا ہے
- 29 چھوٹا جو شہر اپنا تو پھر نہ کوئی مکاں رہا
- 30 خوش ہے کوئی، غم زدہ کوئی، عجب حال ان محفلوں کا ہے
- 31 یہ کس کی چشمِ کرم سے ملا عذاب اچانک
- 32 دسمبر کی ان آخری سرد راتوں کے نام
- 33 نوحہ طلب کرتا ہے… پھر جنت کی
- 34 نوحہ: نامِ حسینؑ پر ماتم
- 35 دل گمشدہ
- 36 ہم آتے ہیں، غزل سناتے ہیں، چلے جاتے ہیں،
- 37 محفل میں بیٹھا وہ نظر یوں ملا لے
- 38 میں خود سے ہی ملتا رہا روز و شب میرے
- 39 کیا پوچھو گزرے روز و شب میرے
- 40 تری یادوں کا یہی درد مرا سرمایہ ہے
- 41 اس نے سینے سے مجھے تھام لیا آخری شب
- 42 کسی بشر پہ نہ تیرا کوئی مقام کھلا
- 43 وہ عالمِ شبِ تنہائی کا سحر نے دیکھا
- 44 ذرا رکتے رکتے پیچھے تیرا کارواں چھوڑا
- 45 عشق تیرے وچ رنگ کے میں بن جاواں ستے رنگ
- 46 تیرے رخِ زیبا کی قسم، حسنِ ازل ہو تم
- 47 کچھ یقیں کچھ گماں کر گیا
- 48 اب یہ دل بھی کسی دن پتھر ہو گا
- 49 مقبول دعا میری اے نورِ خدا کرنا (نعت)
- 50 اب اس دل کو کسی سے کیا ہو گا
- 51 مجھ سے کچھ ایسا واسطہ رکھا
- 52 روتا ہے چمن میں ہر سحر بلبل تڑپتے ہوئے
- 53 ایک لمحے کو جو لوٹ آئیں قمر، مسکراتے ہوئے
- 54 چراغِ دل کی ویرانی میں ہم جلتے ہوئے
- 55 ہمارے دل میں وہ رہتا ہے جو مکیں کہیں اور ہے
- 56 تم سے بچھڑ کر وحشتوں کا آئینہ ہو گیا
- 57 اب اس دل کو کسی سے کیا ہو گا
- 58 پہروں قمر کو دیکھے گا وہ شخص میرے بعد
- 59 امید
- 60 زہر
- 61 تلاطم
- 62 مہ جبیں
- 63 اس گھر میں
- 64 جدائی کا موڑ
- 65 عجب ارزو
- 66 ہمزاد
- 67 بس اک بھولی کہانی
- 68 اب جو خوش ہوتم
- 69 وہ چاردن
- 70 کیا پانا کیا کھونا
- 71 چند لکیریں
- 72 وہ لڑکی
- 73 خوبصورت قیاس
- 74 اک جھلا شخص
- 75 یہ رستہ جو تری آنکھوں سے ترے دل کو ہے
- 76 صبح کی سماعت
- 77 میں اورآسماں
- 78 ہم اور تم
- 79 دیا
- 80 لوٹے جو بعد اک مدت ، ہر سو اداسی لگے
- 81 دعا
- 82 قطعہ
- 83 آخری خط
- 84 خاموش گفتگو
- 85 دیکھو تم
- 86 تیری یادوں نے اج کچھ یوں مجھے رلایا
- 87 علاج درد دل تیری مہ میں ساقیا نہیں
- 88 یوں ان کا بننا سنورنا زمانے کے لیے ہے
- 89 چہرہ تو ہوتا ہے ایک اخبار کی طرح
- 90 قیاس بھی عجب کہ وہ رویا ہوگا
- 91 جب سے بچھڑا ہے تو بکھر گیا ہوں
- 92 کچھ یادوں کی شکل میں کہانی چھوڑ جائیں گے
- 93 غسل آخر نکھر گیا ہوں میں
- 94 جس سے دل لگاؤ رولایا نہیں کرتے
- 95 جی رہا ہوں ترے بغیر، یہ تو کمال ہوگیا
- 96 قمر سحر کو جو تارے بھی چھپنے لگتے ہیں
- 97 مرے شہر کےعجب یہ منظر ہیں
- 98 بات ان کی کیسے ٹالی جائے گی
- 99 راحت لمس ہوائے شام کی لاجواب تھی
- 100 ہو گیں کب سے در بدر اکھیاں
- 101 درد دل سب کو سنا کے دیکھ لیا
- 102 دلکشی، انس، محبت، عقیدت اور عبادت
- 103 مجھ پہ گزرا جو سانحہ لکھوں
- 104 جو سلسلہ ہی نہ ہو تو پھر وضاحتیں کیسی
- 105 پھر اک شام شہر میں آپ کے گزارنا چاہتا ہوں
- 106 سلامی دوں میں جھکائے یہ سر مدینے میں
- 107 اج یاد بڑی آئی فیر اپنے پنڈ دی کسی
- 108 اکھیاں وچوں ڈل کےتے
- 109 کچھ نہیں ہوتا
- 110 میری وہ تنہائی
- 111 مائے نی مائے
- 112 دور عرش پر
- 113 نثری نظم
- 114 وصال جاناں
- 115 دیکھو تم
- 116 بےبسی
- 117 مرجھائے گلاب
- 118 وقت وصال کی سوچ
- 119 سات سمندر گئے پردیسی
- 120 رب کرے وسیلہ کوئی تے دل دا درد تھم جاوے
- 121 ہاتھ میں تیرا ہاتھ اور سنگ زمانہ تھا
- 122 طلب دیدار یار، لہجے میں ضرور شیریں ہوگی
- 123 آج پھر برسا ساون اور کالی گھٹا چھائی
- 124 وہ راہ کہ جس کے موڑ پہ بیٹھا قمر برسوں
- 125 میں نے لکھ دی میکدے کے نام تیرے بعد
- 126 بیٹھ کر میکدے میں جو شروع ہم نے تلقین کر دی
- 127 ہائے وہ اک لمحہ ہے جدائی جو یادگار بنا
- 128 کہے جو تجھ پہ وہ اشہار جھوٹ بولتے ہیں
- 129 رات ہاتھوں میں جام ہوتا ہے
- 130 عکس سے عکس جو ٹکرایا ادھر پانی میں
- 131 سلام حسین