راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

قمر سحر کو جو تارے بھی چھپنے لگتے ہیں

قمر سحر کو جو تارے بھی چھپنے لگتے ہیں
تب ان کے وعدے بھی ہم کو بہانے لگتے ہیں
نہ اختیار میں رہتا ہے دل عجیب مرا
یہ مان جاتا ہے، جب وہ بہلنے لگتے ہیں
بس ایک مشغلہ تنہائی میں ہمارا ہے
پرانی یادوں پہ انسو بہانے لگتے ہیں
نہ پوچھو خوف کا عالم، نہیں بیاں ہوگا
ہم اپنے شہر میں جاتے ہوئے بھی ڈرنے لگتے ہیں
عزیز چائے ہوں جیسے بھی، یہ حقیقت ہے
دیار غیر میں سب یاد انے لگتے ہیں

راجہ اکرام قمر