قمرؔ یہ حسن جو حد سے بڑھا، خدا کی قسم
دل بھی گیا، یہ صبر بھی گیا، خدا کی قسم
وہ ایک جلوۂ نازک، وہ اک نظر کی لگن
عقل بھی گئی، مرا ہوش بھی گیا، خدا کی قسم
رخِ یار دیکھا تو دنیا کی کیا حقیقت تھی
نظر سے رنگِ جہاں سب اٹھا، خدا کی قسم
وہ مسکرائے تو تقدیر جاگ اٹھی اپنی
غمِ زمانہ بھی یکسر مٹا، خدا کی قسم
وہ پاس آئے تو معنی بدل گئے سب کے
سوال بھی نہ رہا، مدّعا گیا، خدا کی قسم
قمرؔ حسابِ عشق میں کچھ بھی نہ بچ سکا
میں خود گواہ بنا، اور خود ہی لُٹا، خدا کی قسم
راجا اکرام قمر