راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

قطعہ

تھامے شیشہ دلنشیں کو لرزتے ہاتھوں میں
لگائے بیٹھا ہوں لاکھوں پہرے اپنی سوچوں پر
طلب نے پینے کو چند قطرے شراب خوشہ فلک
ہونٹ رکھوا دیے بے ساختہ اس کے ہونٹوں پر

راجہ اکرام قمر